17 فروری 2026 - 05:55
حصۂ اول | ٹرمپ حکومت امریکی اخلاقی-روحانی انحطاط کا مصداق / ممدانی، تبدیلی کی نوید / ایران اور امریکہ کے عوام امن کے پیامبر ہو سکتے ہیں! سینڈر ہکس

فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس کہتے ہیں: اگر ایران اور امریکہ جغرافیائی-سیاسی تصور میں دشمن سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان دو ملکوں کی قومیں این دوسرے کے لئے ـ امن و سلامتی کے حصول کے لئے ـ شرکاء بن سکتی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس (Sander Hicks)، جو اس کانفرنس کے مقرر ہیں، نے کہا:

سب کو سلام،

میرا نام سینڈر ہکس ہے، میں یہ مقالہ آپ کی کانفرنس "ریاستہائے متحدہ کا زوال اور دوسرا جنم" کے لئے، شہر نیویارک سے بھیج رہا ہوں۔

میں یہ الفاظ آج بین الاقوامی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے، آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ جیساکہ کوئیکر فرقے (Quakers or Friends) کے بانی جارج فاکس (George Fox-1624-1692) لکھتا ہے: "جب لوگ خود کو روح خدا کے سامنے تسلیم کر دیتے ہیں اور اس کی مدد سے اس قادر مطلق کی تصویر میں تبدیل ہوجاتی ہیں، وہ "کلمۂ حکمت" کو وصول کر سکتے ہیں، جو ہر چیز کو [ہماری آنکھوں کے سامنے] کھول دیتی ہے اور وہ اس "خفیہ وحدت [و اتحاد]" کو دریافت [Discover] کر سکتے ہیں۔" چنانچہ میں قرآن کریم کی ایک سورت [کی مقدار کی] تلاوت کے برابر جارج فاکس کا کلام نقل کرتا ہوں اور میں سب کو اس مقام پر بلاتا ہوں: " ازلی وجود میں پوشیدہ اتحاد (Hidden Unity in the Eternal Being) ۔"

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات فی الحال بہت خراب ہیں، لیکن اس کانفرنس کی طرح کی بیٹھکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ازلی دشمن نہیں ہیں اور ایسے پرویگنڈوں سے متاثر نہیں ہوئے ہیں جو ہمارے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ اس قسم کی کانفرنسیں ایسے مرحلے میں بات چیت اور سفارت کاری کا امکان فراہم کرتی ہیں جہاں رسمی اور سرکاری چینلز ناکام ہو چکے ہیں۔ میں ماضی میں بھی ایران کے دورے پر آتا رہا ہوں میرے تہران اور پھر مشہد کے دوروں نے مجھ پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

میں نے امام رضا [علیہ السلام] کے حرم میں ایک طاقتور اور منقلب کرنے والی (Transformative) روحانی قوت محسوس کی۔ وہی توانائی یہاں ہمارے ساتھ ہے۔ وہ طاقت، اس بحرانی لمحے میں، ہمیں کس کام کی طرف بلا رہی ہے؟ وہ ہمیں دعوت دے رہی ہے کہ جنگ کے سامنے کھڑے ہوجائیں، اور اعلان کریں کہ نسل کُشی ایک بہت بڑی اخلاقی غلطی ہے؛ وہ ہمیں بلا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مزید تنزلی اور گراوٹ کے سامنے مزاحمت کریں اور اس راستے کو الٹ دیں۔ کیا آپ اس لمحے مجھ سے آ ملیں گے تاکہ کچھ رک جائیں اور خدائے رحمان کی مدد سے خود کو رحمت، منطق اور گفتگو کے لئے وقف کر دیں؟

کانفرنس کا موضوع "ریاست ہائے متحدہ کا زوال"، ہے جو اشتعال انگیز ہے۔ میں بھی اپنے ملک میں اخلاقی اور سیاسی بحرانوں کے حوالے سے فکرمند ہوں؛ لیکن میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ مزاحمت کریں اور "زوال" کو "آخری فیصلے کے طور پر" کی دائرہ بندی کے مقابلے میں مزاحمت کریں ورنہ ممکن ہے کہ اس پوسٹ ماڈرن زمانے میں کچھ زیادہ ہی نظریاتی (اور آئیڈیالوجک) نظر آئیں! امریکہ تضادات کا مجموعہ ہے: گہری غلطیاں بھی ہیں اور تجدید کے لئے زندہ جاوید امکاات بھی۔ اس مقالے میں اس روایتی بیانیے کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ سنہ 1973ع‍ میں ایک شدید اقتصادی زوال کے تجربے سے گذرا ہے، اور میں اخلاقی زوال کے دعوے کے بارے میں بھی تنقیدی سوچ کا حامل ہوں۔ نیز صدر ٹرمپ کی اخلاقی غلطیوں کے بارے میں اپنی تازہ ترین تحقیقات بھی پیش کروں گا۔ آج ہم امن کے نوبل انعام کے لئے ان کی درخواست کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

میں امریکہ میں ترقی پسند تحریک سے پرامید ہوں؛ جہاں عدل و انصاف، جمہوریت اور امن کے مطالبات عوامی سرگرمیوں سے جنم لیتے ہیں۔ مستقبل پر نظر ڈالیں۔ مختصر سے تین سالہ عرصے کے بعد سنہ 2028ع‍ میں صدارتی انتخابات پرامن اور جمہوری اوزاروں کے ذریعے، "تبدیلی" کے انتخاب کا موقع فراہم ہوجائے گا۔ اسی اثناء میں اس قسم کی بین الاقوامی کانفرنس ایک الگ قسم کی سفارت کاری کو مجسم کرتی ہیں: عوام کے ساتھ عوام کے باہمی اقدامات، جو امن کو نمایاں کرتے ہیں؛ حتیٰ ایسے وقت میں جب حکومتیں مقابلے کا راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ زوال، ایک انجام نہیں ہے۔ ہم حوصلے، عدل و انصاف اور معنی و روحانی حقیقت کے ذریعے تشدد کے سامنے مزاحمت کر سکتے ہیں، یا عدم مساوات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اقوام کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیں دکھاتی ہے کہ "تجدید" کا معجزہ، ممکن ہے؛ شرط یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو آمادہ کریں اور مل کر اقدام کریں۔

خود "مسئلۂ زوال" کی دائرہ بندی

اچھا تو اس کانفرنس کا عنوان خود ہیں "زوال" کے تصور سے دست بگریباں ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ لفظ "زوال" قابل بحث اور قابل تنقیل ہے۔ جب آپ کہتے ہیں "زوال"، شاید آپ کا مطلب ایک قابل پیمائش اقتصادی کسادبازاری، اخلاقی پوزیشن کھو جانا، یا عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی ہو۔ یا یہ کہ شاید "امریکہ کا زوال" وہ چیز ہو کہ بعض افراد امریکہ کی موجودہ حکومت کے جرائم کی وجہ سے اس کے خواہاں ہیں۔ مجھے ایک بار پھر یاددہانی کرانے دیجئے کہ یہ حکومت عارضی ہے، اور اس سے پہلے بھی انتخابات کے ذریعے سنہ 2020ع‍ میں، برطرف کی جا چکی ہے [ٹرمپ کی صدارت کا پہلا دورنچلی سطح پر عوام کے درمیان نئی تحریکیں، اوپر کی [سرکاری] سطح کی برائیوں اور بدعنوانیوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ امریکہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات، پراکسی جنگوں اور اپنی سرحدوں سے دور، دیوانہ وار عسکریت پسندی میں گھرا ہؤا ہے، اور اندرونی سطح پر ہماری سیاسی ثقافت تشدد، قتل، اجتماعی قتل، لاقانونیت، افراتفری، اور بداعتمادی کی وجہ سے فرسودہ ہو چکی ہے۔ لیکن ترقی پسند تحریک وسیع استعداد اور طاقت کی حامل ہے۔ ہمارے ہیں تخلیق، صبر و تحمل اور عوامی سرگرمیوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ آج کے امریکہ کی داستان نہ "مکمل زوال" ہے اور نہ ہی "مکمل فتح"۔

آیئے صبر و تحمل کے ساتھ اس تضاد کو قبول کر لیں اور "قوم پرستانہ تلاشِ فتح" یا "معذرت خواہانہ مذمت" سے بالاتر ہوکر، آیئی اس سمجھ اور ادراک کو زیادہ حقیقی گفتگو کے لئے ماحول بنانے دیں۔

آیئے 1973ع‍ میں امریکہ کے اقتصادی زوال کا جائزہ لیتے ہیں؛ امریکہ کے زوال کا تصور ذہن میں اس مسلسل دہرائے جانے والے دعوے کے مجسم کرتا ہے کہ "امریکہ سنہ 1973ع‍ سے اقتصادی کسادبازاری سے دوچار ہے۔" لیکن اس "قطعیت" (اور حتمیت) کا تنقیدی جائزہ امریکہ کی اقتصادی حقیقیت کے بارے میں ایک گہری حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ اور میرے دوستو! علم اقتصاد یہاں مسئلے کی جڑ کا جائزء لیتا ہے۔

سنہ 1971ع‍ اور سنہ 1973ع‍ کے درمیان اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن نے ڈالر اور سونے کے درمیان تعلق منقطع کرکے بریٹن ووڈز سسٹم (Bretton Woods system) کا خاتمہ کر دیا۔ امریکہ کے پاس مزید ضروری مقدار میں سونے کے ذخائر نہیں تھے، جو عالمی مانگ کا جواب دے سکیں، اور ڈالر قیاٹ کرنسی (‌Fiat Currency) بن گیا۔ سہارے کے بغیر کرنسی جس اس کا واحد پشتوانہ "امریکی حکومت کا اعتماد اور اعتبار" تھا۔ اس تبدیلی نے دنیا کے مالی نظام کو نئے سرے سے متعارف کروایا کیا؛ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے کردار کو تقویت پہنچائی اور عدم استحکام کے نئے دور کے لئے ماحول فراہم کیا۔ اس کے بعد، ثمر آوری (Productivity) (یعنی کام کے مقام پر ایک سادہ مزدور کی دی ہوئی پیداوار) نے امریکی معیشت میں اپنی نشوونما کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن اجرتیں اس کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکیں۔ سنہ 1973ع‍ سے سنہ 2013ع‍ تک کے دوران ثمر آوری میں تقریبا 74 فیصد اضافہ ہؤا، حالانکہ معمولی مزدوروں کی اجرت میں اسی عرصے میں صرف 9 فیصد اضافہ ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha